The Legal Superiority of Domicile Certificate and the Limitations of Identity Card Address

V.V. Important Judgement of Supreme Court of Pakistan

The legal superiority of domicile certificate and the limitations of Identity Card Address

"سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی روشنی میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی قانونی برتری اور شناختی کارڈ ایڈریس کی حدود". "ملازمت میں تقرری، ڈومیسائل کی حیثیت ""آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی: حدود، طریقہ کار اور عدالتی پالیسی"

 

C.R.P.5/2023

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین)، چارسدہ و دیگر بنام محترمہ سونیا بیگم

جسٹس سید منصور علی شاہ — 25 اپریل 2025

فیصلہ ۔۔۔

یہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ہے، نہ کہ شناختی کارڈ کا پتہ، جو ملازمت کے لیے کسی اُمیدوار کی مستقل رہائش کا تعیّن کرتا ہے۔ عدالت نے مزید خبردار کیا کہ صرف شناختی کارڈ کے پتے پر انحصار کرنا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی حیثیت کو مجروح کرے گا اور اہل اُمیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ عدالت نے "ڈومیسائل" اور "رہائش" میں فرق کو تسلیم کرتے ہوئے اور "جائز توقعات" کے اصول کو بروئے کار لاتے ہوئے قرار دیا کہ جو اُمیدوار کامیابی سے مقابلے کے امتحانات پاس کر چکے ہوں اور اُن کے پاس درست ڈومیسائل سرٹیفکیٹ موجود ہوں، انہیں محض تکنیکی بنیادوں پر تقرری سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

 

(1) سپریم کورٹ میں نظرثانی کے دائرۂ کار کی وضاحت۔

(2) ہر مقدمے میں سپریم کورٹ میں نظرثانی دائر کرنے کے چلن کی مذمت۔

(3) ایسے تمام معاملات میں جرمانے عائد کرنے کی ہدایت جو فضول، تنگ کرنے والے اور عدالت کا وقت ضائع کرنے والے ہوں۔

 

سپریم کورٹ کے فیصلہ کا  قانونی تجزیاتی جائزہ ۔۔۔

جس میں ہر متعلقہ قانونی پہلو پر متعلقہ قوانین و دفعات کی روشنی میں وضاحت کی جا رہی ہے ۔۔۔

 

1. ڈومیسائل (Domicile) بمقابلہ رہائش (Residence):

 

قانونی نکتہ:

عدالت نے واضح کیا کہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کسی شخص کی مستقل رہائش (permanent residence) کا تعیّن کرتا ہے، نہ کہ نادرا کے شناختی کارڈ کا عارضی پتہ۔

 

متعلقہ دفعات و قوانین:

Pakistan Citizenship Act, 1951

اس قانون کے تحت "domicile" کا تعیّن ریاستی منظوری کے تحت ہوتا ہے اور یہ شہریت اور ملازمت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

Civil Servants (Appointment, Promotion and Transfer) Rules, 1973

رول 3 اور رول 4 کے تحت امیدوار کی تعیّناتی میں ڈومیسائل ایک فیصلہ کن عنصر ہے۔

 

عدالتی اصول:

عدالت نے کہا کہ اگر CNIC کا پتہ ہی معیار مان لیا جائے تو ڈومیسائل کا ادارہ غیر مؤثر ہو جائے گا، جو انتظامی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

 

2. جائز توقع (Doctrine of Legitimate Expectation):

قانونی نکتہ:

جن امیدواروں نے متعلقہ امتحانات پاس کیے اور اُن کے پاس جائز ڈومیسائل موجود ہے، وہ تقرری کے "جائز حق" کے حقدار ہیں۔

 

متعلقہ نظائر و اصول:

Supreme Court Judgment: Tariq Aziz-ud-Din case (2010 SCMR 1301)

عدالت نے جائز توقع کے اصول کو تسلیم کیا کہ امیدواروں کو کسی غیر معقول بنیاد پر نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

PLD 1996 SC 324 (Federation vs. Shafi Muhammad)

اس میں بھی جائز توقع کے اصول کو تسلیم کیا گیا، خاص طور پر جب ریاست نے کچھ وعدے یا اقدامات کیے ہوں۔

 

3. نظرثانی درخواست (Scope of Review under Article 188 of Constitution):

قانونی نکتہ:

عدالت نے نظرثانی کی گنجائش کو محدود اور غیر معمولی حالات تک محدود قرار دیا۔

 

متعلقہ دفعات:

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 188:

"سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اپنے کسی بھی فیصلے یا حکم پر نظرثانی کرے، جیسا کہ عدالت کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق ہو۔"

Supreme Court Rules, 1980 — Order XXVI:

قاعدہ 1 سے 9 تک نظرثانی درخواست کے دائرہ کار، وقت، طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔

 

عدالتی ریمارکس:

ہر مقدمے میں بلاجواز نظرثانی کی درخواستیں دائر کرنا، نظامِ عدل کے ساتھ ناانصافی ہے۔

 

4. فالتو اور تکلیف دہ درخواستیں (Frivolous and Vexatious Petitions):

قانونی نکتہ:

عدالت نے ایسے تمام مقدمات میں لازمی جرمانے عائد کرنے کی ہدایت دی جو عدالت کا وقت ضائع کریں۔

 

متعلقہ نظائر:

PLD 2007 SC 277

عدالت نے واضح کیا کہ غیر سنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی درخواست گزاروں پر لاگت (costs) عائد کی جا سکتی ہے تاکہ عدالتی وقت کا ضیاع نہ ہو۔

Order XXVIII-A, Supreme Court Rules, 1980

فالتو درخواست پر عدالت جرمانہ عائد کر سکتی ہے

 

(Conclusion):

یہ فیصلہ عدلیہ کے اُن اصولوں کی عکاسی کرتا ہے جو انتظامی انصاف، شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی ریکارڈ کی ساکھ کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ عدالت نے جہاں انتظامیہ کو یاددہانی کرائی کہ ڈومیسائل ایک آئینی و قانونی دستاویز ہے، وہیں اُنہیں غیر ضروری عدالتی بوجھ سے بچنے کے لیے احتیاط کی بھی تاکید کی۔

 

Comments